20 مارچ 2015 - 11:49
دہشتگرد گروہوں میں شمولیت، ریاض کا اعتراف

سعودی عرب کے وزیرداخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ چار برسوں کے دوران دو ہزار دو سو چوراسی سعودی شہری دہشتگرد گروہوں میں شمولیت کیلئے ملک سے باہر گئے ہیں-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے وزیرداخلہ منصور الترکی نے جمعرات کے روز اخبار الحیات سے گفتگو میں سعودی عرب کے شہریوں کی، دہشتگرد گروہوں میں شمولیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے صرف چھے سو پینتالیس سعودی شہری ابتک وطن واپس لوٹے ہیں- انھوں نے کہا کہ اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے والے باقی سعودی شہری، مارے جاچکے ہیں- سعودی عرب کے وزیرداخلہ نے کہا کہ ریاض کی حکومت، اس سلسلے میں صورت حال کا مکمل طور پر جائزہ لے رہی ہے- ان کا یہ بیان، اس خبر کے ردعمل میں سامنے آیا ہے کہ شام میں سعودی عرب کا ایک طالب علم، ہلاک ہوگیا- واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اس قسم کی رپورٹیں ملتی رہی ہیں کہ عراق اور شام میں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے والے سعودی شہری، عراق و شام کی فوج اور عوامی رضاکاروں نیز عام شہریوں کے خلاف خودکش حملے کررہے ہیں- دریں اثنا سعودی شہزادے اور اس ملک کے انٹلیجنس ادارے کے سابق سربراہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ ریاض، فری سیرین آرمی کیلئے، اپنی حمایت جاری رکھے گا- انھوں نے شام کے امور میں مداخلت کرتے ہوئے شام کے بحران کے حل کے حوالے سے، یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ شام اور اس کی سرحدوں سے ملے، ترکی اور اردن کے علاقے کو، نو فلائی زون قرار دے دیا جائے اور بشار اسد حکومت کے خلاف برسرپیکار گروہوں کی حمایت کی جائے- قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب، بحران شام کے آغاز سے ہی، اس ملک میں سرگرم عمل دہشتگرد گروہوں کی، ہمہ جہتی حمایت و مدد کرتا آیا ہے اور دہشتگردوں کیلئے اس کی حمایت، بدستور جاری ہے-
مشرق وسطی کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں ایک اسرائیل نواز حکومت کو اقتدار میں لانے کی امریکا اور م‏غربی ملکوں کی سازش ناکام ہوگئی ہے- مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سازش میں شریک امریکا کے مقامی اتحادی خصوصا سعودی عرب اور ترکی کے حکام پر بھی پر بھی اس حوالے مایوسی طاری ہوگئی ہے-

.......

/169